گرل فرینڈ یا جدید دور کی "لونڈی"

گرل فرینڈ یا جدید دور کی "لونڈی"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل زمانہ قدیم میں عورت کے دو سٹیٹس چلے آ رہے تھے
ایک:
باعزت ، خاندانی خاتون جس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے لئے باقاعدہ نکاح کیا جاتا تھا
دوسری:
منڈیوں میں بکنے والی ، قابل خرید و فروخت عورت جس کو "لونڈی" کہا جاتا تھا،
لونڈی کا سٹیٹس یہ تھا کہ جو بھی اس کا ریٹ لگا کر اس کو خرید لیتا وہ اسی کی ہوتی اور اس کے ساتھ اس کا مالک بغیر نکاح کے جنسی تعلقات قائم کر سکتا تھا ، اسے تقریبا قانونی حیثیت حاصل تھی۔
اسلام نے غلامی کے تصور کی حوصلہ شکنی کی اور غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کروا دیا
لیکن
آج پھر کچھ لڑکیاں اپنے آپ کو باعزت ، خاندانی اور نکاح کے ذریعے گھر کی مالکن کے مرتبے سے گرا کر وہی لونڈی کے درجے پر لے آئی ہیں
اور اس "جدید دور کی لونڈی" کا نام ہے "گرل فرینڈ"
جس کے بارے ابن آدم کا دعوی ہے کہ وہ اس کو گھٹیا سے گفٹ اور چند بار کی شاپنگ کے عوض "خرید" لیتا ہے
سوچنا عورت کو چاہیئے کہ وہ نکاح کر کے گھر بسانا چاہتی ہے یا "گرل فرینڈ" بن کر کسی کے لئے "ٹائم پاس" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
-
رضوان علی


اسلامسٹ بمقابلہ سیکولرازم

اسلامسٹ بمقابلہ سیکولرازم 
محمد عامر خاکوانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو چار سادہ سوالات ہیں اور اتنے ہی سادہ اور واضح ان کے جواب ہیں، مگر چونکہ ان پر کھل کربات نہیں ہوتی، اس لئے کنفیوژن چل رہا ہے۔ایک سوال جو بار بار پوچھا جاتا ہے،سوشل میڈیا اور بعض ویب سائیٹس پر اس حوالے سے دھواں دھار بحث بھی چل رہی ہے کہ ریاست کو سیکولر ہونا چاہیے یا مذہبی یعنی اسلامی۔ کئی دوستوں کو یہ بات سمجھ نہیںآتی کہ آخراسلامی ریاست پر اتنا اصرار کیوں؟ بعض کو اس پر حیرت ہے کہ آخر اسلامسٹ کی اصطلاح کیوں استعمال کی جا رہی ہے ، کیا ان لوگوں کو جو ان کے حامی نہیں، انہیں غیر مسلم تصور کیا جا رہا ہے؟برادرم وجاہت مسعودجیسے صاحب علم بھی یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ رائٹسٹ کے ساتھ اسلامسٹ کیوںلکھا جا رہا ہے۔اسی طرح کئی لوگ بڑی معصومیت سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ لبرل ازم کو معاشرے میں رائج کرنا چاہیے۔جس کی مرضی ، جو کچھ کرے، کوئی کسی کو روکے نہ ہی کچھ کرنے کے لئے اصرار کرے۔ پچھلے دنوں ویلنٹائن ڈے کی بحث میں اچھے خاصے دین دار گھرانوں کے نوجوان بھی یہ بات کہتے پائے گئے کہ ویلنٹائن کے حوالے سے کسی قسم کی پابندی کے بجائے لبرل رویہ اپنانا چاہیے، کوئی منانا چاہے تو منا لے، نہ منانا چاہے تو اس سے دور رہے۔ اس پورے منظرنامے میںقابل ترس صورتحال روایتی مذہبی طبقے یا رائیٹ ونگ کی ہے۔ میڈیا میں ان کا مقدمہ پیش کرنے والا کوئی نہیں۔ ایسا کوئی نہیں جو سلیقے کے ساتھ، اعتدال اور توازن رکھتے ہوئے دلائل کے ساتھ ان کا نقطہ نظر واضح کرے۔ جو دو چار نوجوان جوش ایمانی سے اس پر قلم اٹھاتے ہیں، ان پردلیل کی جگہ جذبات غالب رہتے ہیں ۔
سب سے پہلے تو ان اصطلاحات کو واضح کر دینا چاہیے۔ ہمارے ہاںسیکولرازم کا ترجمہ عام طور سے لادینیت کیا جاتا ہے، ہمارے سیکولر دوست اس پر بڑا تلملاتے اور برہم ہوتے ہیں۔ ان کی دل آزاری کے باعث میں لادینیت کی اصطلاح استعمال نہیں کر رہا، یہ اور بات کہ سیکولرازم آخری تجزیے میں اسی جانب ہی لے جاتا ہے۔سادہ الفاظ میں سیکولر ازم سے مراد ہے کہ مذہب ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے،تاہم ریاست غیر مذہبی ہوگی اور حکومتی معاملات سے مذہب کو دور رکھا جائے گا۔ اس سارے معاملے میں سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ خدا اور تصور خدا ریاستی معاملات سے بالکل آٹ ہوجاتا ہے۔ ایک سیکولر معاشرہ مذہب کو ہر ایک کا نجی معاملہ قرار دے کر اس میں مداخلت نہیں کرتا، یاد رہے کہ یہ اچھی سیکولرسوسائٹی کی بات ہو رہی ہے، ورنہ ترکی کے سخت گیر سیکولر اور عرب سپرنگ سے پہلے کے مصر، تیونس جیسے ممالک میں لوگوں کے لئے انفرادی طور پر بھی مسلمان رہنا مشکل ہوگیا تھا۔ ترکی میں لمبے عرصے تک مساجد کو تالے لگے رہے، ڈاڑھی رکھنے اور سر پر سکارف تک لینے کی اجازت نہیں تھی۔ایک اچھے یا مہذب سیکولر معاشرے میں کسی شہری کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کی جاتی ،مگر ریاست اپنے تمام قوانین ، ضابطوں اور اپنے نظریہ کی تمام تر بنیاد انسانی دانش اور قوانین پر رکھتی ہے۔ خدائی احکامات کسی سیکولر ریاست میںذرا برابر بھی اہم نہیں ہیں۔ 
ہماری تمام تر بحث چونکہ پاکستانی تناظر میںہور ہی ہے، مخاطب بھی پاکستانی ہیں، اس لئے ہم مقامی حوالوں کو اہمیت دیں گے ۔ رائیٹ ونگ یا رائٹسٹ ہونے کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ یہ اصطلاح فرانسیی انقلاب کے دنوں میں سامنے آئی ، بعد میں ان میں تبدیلیاں آتی رہیں۔ دنیا بھر میں رائیٹ ونگ سے مراد مذہبی سوچ رکھنے والے، قدامت پسندی یا روایتی اخلاقیات کو اہمیت دینے والے لوگ ہیں۔ مختلف ممالک میں یہ تقسیم مختلف ہے۔ جیسے امریکہ میں ری پبلکن پارٹی نسبتاً زیادہ مذہبی، قدامت پسند اورکسی نہ کسی حد تک اخلاقیات کی بات کرتی ہے، اس لئے امریکہ میں انہیں ایک طرح سے رائیٹ ونگ سمجھا جاتا ہے۔ ڈیموکریٹ ان کے برعکس بہت زیادہ لبرل، فرد کی آزادی کے بہت زیادہ حامی ، ہم جنس پرستی اور اسقاط حمل تک کی اجازت دینے کے حق میں ہوتے ہیں۔ بھارت میں بی جے پی کو ایک لحاظ سے رائیٹ ونگ پارٹی کہا جاتا ہے۔پاکستان میں یہ تقسیم بہت واضح ہے۔ یہاں پر رائیٹ ونگ سے مرادروایتی مذہبی طبقہ اور دینی سوچ رکھنے والا معتدل طبقہ ہے،جو اپنی روایتی اخلاقیات کو مغرب کی تہذیبی یلغار سے بچانے کی بات کرتا ہے، جو چاہتا ہے کہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے، اس سسٹم کی خیر وبرکات لوگوں تک پہنچائی جائےں اور وہ معاشرہ تشکیل دیاجائے جو اللہ کو پسند ہے اور جس کی تلقین اللہ کے آخری رسول ﷺنے کی ہے۔ ہم رائیٹسٹ کو اسلامسٹ صرف اس بنیاد پر یہ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری انفرادی اوراجتماعی زندگی کا محور خدا کی ذات ہونی چاہیے۔ یہ اسلامی ریاست کی بات کرتے ہیں، اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں اور مثالی اسلامی فلاحی معاشرہ تشکیل دینے کا خواب دیکھتے اور اس کی خاطر کوشاں رہتے ہیں ۔
اسلامسٹوں یا رائٹسٹوں کا مطالبہ بڑا سادہ اور آسان ہے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ایک فرد کی انفرادی زندگی تو مذہب اور خدا کے تصور ، اس کے احکامات کے گرد گھومتی ہے، اس کی اجتماعی زندگی،معاشرے ، حکومت اور ریاست کا محور بھی خدا ہونا چاہیے۔ اس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ ملک میں پاپائیت قائم ہوجائے یا ہر ادارہ مولوی صاحبان کے حوالے کر دیا جائے ۔ دینی طبقہ اپنا کام کر رہا ہے، دین سیکھنا، دین سکھاناان کا کام ہے،وہ وہی کرتے رہیں گے۔ اسلامی ریاست کے تصور کو سمجھنا مشکل نہیں۔ ہر ریاست کچھ قوانین بناتی ہے، کچھ چیزوں سے وہ روکتی اور کچھ کی اجازت دیتی ہے، ہر جگہ کچھ (Do’s and Don’ts) ہوتے ہیں۔ اب سیکولر ریاست ان تمام کا منبع انسانی عقل ،تجربات اور دانش سے لیتی ہے۔ جبکہ اسلامی ریاست اپنے قوانین ، اپنے ڈوز ، ڈونٹس کی انسپائریشن اسلام سے لیتی ہے۔ خدائی احکامات اس کا منبع ہوتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی فرق ہے جو اسلامسٹوں اور سیکولرسٹوں کو الگ کرتا ہے۔اسلامسٹ خدائی قوانین پر اصرار اس لئے کرتے ہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انسانی دانش ، عقل غلطی کر سکتی ہے، دھوکہ کھاجاتی ہے، جبکہ خدائی احکامات کسی بھی قسم کی غلطی اور خطا سے پاک ہیں۔ وہ حتمی اور ہر زمانے کے مطابق درست ہیں۔ اسلامی ریاست اللہ کے قوانین کو اپنی عقل پر ترجیح دیتی ہے۔ جو چیزیں رب ذوالجلال نے حرام کر دیں، وہ کوئی ریاست حلال نہیں کرسکتی، اسی طرح حلال چیزوں کو کوئی حرام نہیں کر سکتا۔اسلامی ریاست مگر صرف حلال حرام کی بحثوں میں نہیں پڑی رہتی،ایسی ریاست کا بنیادی عقیدہ ہے کہ شہریوں کی فلاح وبہبود کا ماں کی طرح خیال رکھا جائے ۔ غیر مسلموںکے حقوق کا نہ صرف تحفظ بلکہ اس معاملے میں تو اصولاً ایثارکا مظاہرہ کرنا چاہیے اور مسلمان شہری اپنے کچھ حقوق کی قربانی دے کر اپنے غیرمسلم بھائیوں کا خیال رکھیں۔اسلامی ریاست میں کسی بھی صورت میں ظلم باقی نہیں رہ سکتا، اسلامی معاشرے کا مرکزی جز عدل اور انصاف ہے ۔
اب پاکستان جیسے ملک میں جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، ....یہاں حکمران اشرافیہ، بدعنوان ظالم انتظامیہ اور طاقتور استحصالی طبقات کی گٹھ جوڑ کی وجہ سے پورا نظام تباہ ہوچکا ہے، کرپشن ہر طرف پھیلی ہوئی ہے، غریب کو انصاف میسر ہے نہ جینے کا حق۔ مہنگائی اورناجائز منافع خوری روکنے والا کوئی نہیں، ہر جگہ میرٹ پامال ہوتا ہے اور مافیاز طاقت پکڑ چکے ہیں،.... ایسے معاشرے میں فطری طور پر دیگر خرابیوں کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرے کے بنیادی اجزا پر بھی پوری طرح عمل نہیں ہو رہا۔ ان تمام خرابیوں کی ذمہ داری ریاست کے مذہبی ہونے پر نہیں۔ نظام کی خامیاں خاص کر قانون کی عملداری نہ ہونا اس کا بنیادی سبب ہے۔ اس لئے مذہبی سوچ رکھنے والوں کونئے فتنے پیدا کرنے کے بجائے اپنی بہترین صلاحیتیںاسلامی معاشرے کی تشکیل پر صرف کرنی چاہئیں، جبکہ سیکولر سوچ رکھنے والوں کو سیکولر ریاست کا خواب دیکھنے کے بجائے ریاستی نظام کی بہتری ، اس میں اصلاحا ت لانے پر توجہ دینی چاہیے۔پاکستان پچانوے فیصد سے زیادہ مسلم اکثریت رکھنے والا ملک ہے، جہاں کی بیشتر آباد ی دینی معاملات میں بے حد جذباتی ہے، نماز ، روزہ پڑھنے والے نہ بھی ہوں، تب بھی حرمت رسول ﷺپر وہ کٹ مرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ایسی جگہ سیکولر ازم قطعی نہیں آ سکتا، ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی رہے گا، سیکولر بنانے کی کوشش صرف اور صرف شدت پسندمذہبی تعبیر رکھنے والوں کو تقویت پہنچاتی ہے۔ اپنی شناخت کا خوف انہیں مزید بنیاد پرستی پر اکساتا ہے۔ اس لئے اب ریاست کی ہئیت طے ہوچکی، اس کا نظام ٹھیک کرنا چاہیے، تمام توانائیاں اس سمت لگانا ہوں گی۔ اسے ہدف بنانا چاہیے، اگر ایسا ہوسکے توپھر سیکولروں اور اسلامسٹوں میں مشترکہ جدوجہد کے نکات طے ہو سکتے ہیں۔ 
http://dunya.com.pk/…/amir-khakw…/2016-02-22/14470/82529786…

The Great Book Robbery - A Film by Benny Brunner

میزائل ٹیکنالوجی کا بانی ٹیپو سلطان تھ



پیرس(نیوز ڈیسک)آج مغربی دنیا مسلمانوں کو پسماندہ قوم قرار دے رہی ہے لیکن ایک وقت تھا کہ جدید سائنس کی بنیاد مسلمان محققین رکھ رہے تھے اور خصوصاً طب، کیمسٹری اور فزکس جیسے تجرباتی مضامین کیلئے تو ان کی خدمات بے پناہ ہیں جنہیں دیانتدار تاریخ دان آج بھی سلام پیش کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید دور کی جنگوں میں استعمال ہونے والے اہم ترین ہتھیار راکٹ اور میزائل کی ایجاد بھی ایک نامور مسلمان جرنیل نے کی جس کا اب عالمی سطح پر اعتراف کیا جارہا ہے۔شیر میسور ٹیپو سلطان کا نام بہادری اور جرات کی مثال کے طور پر مشہور رہے لیکن ان کا ایک اور تعارف یہ بھی ہے کہ ان کی فوج نے دنیا کی تاریخ میں پہلی دفعہ بارود سے چلنے والا راکٹ استعمال کیا جس نے انگریز فوج کے چھکے چھڑا دئیے۔
ان راکٹوں کی بنیاد ٹیپو سلطان کے والد حیدر علی کے دور اقتدار میں رکھی گئی لیکن ٹیپو سلطان نے انہیں دنیا کا خطرناک ترین ہتھیار بنادیا۔
اٹھارہویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی افواج ہندوستان کو روندتی چلی جارہی تھیں لیکن جب ان کا مقابلہ ریاست میسور کی افواج سے ہوا تو ان کے ہوش ٹھکانے آگئے۔
ریاست میسور اور برطانوی افواج میں ہونے والی دوسری جنگ میں کرنل ولیم بیلی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کی فوج پر آسمان سے کیا قیامت برس رہی ہے۔ تاریخ دان کہتے ہیں کہ میسوری فوج کے راکٹوں نے انگریزی فوج کے اسلحہ خانوں کو اڑا کر رکھ دیا اور جنگ میں ڈھیروں وسائل اور کثیر تعداد کے باوجود ریاست برطانیہ کو شرمناک شکست ہوئی۔ اس کے بعد میسور کی تیسری جنگ میں بھی ان راکٹوں کا شاندار استعمال کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب برطانیہ اور یورپ میں ہلکے پھلکے راکٹ بنائے جاتے تھے جن کا خول گتے یا لکڑی کا ہوتا تھا جس کی وجہ سے یہ بہت کم طاقت کے حامل تھے۔ اس کے برعکس ٹیپو سلطان کے راکٹوں کا خول لوہے سے بنایا جاتا تھا اور ان میں زیادہ بارود بھرا جاتا تھا۔ ان کے ساتھ تلواروں جیسے تیز دھار بلیڈ بھی لگائے جاتے تھے اور ان کی سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ یہ دو کلومیٹر کے فیصلے تک عین نشانے پر لگتے تھے۔ انہیں چلانے کیلئے فوجیوں کو خصوصی تربیت دی جاتی تھی اور علیحدہ سے راکٹ بریگیڈ قائم کی گئی تھی جس کے پاس پہیوں والے راکٹ لانچر بھی ہوتے تھے۔ یہ لانچر بیک وقت درجن بھر راکٹ چلاتے تھے جو دشمن کی افواج پر گرتے وقت گھومنا شروع کردیتے تھے اور یوں درجنوں فوجیوں کو لمحوں میں کاٹ کر رکھ دیتے تھے۔ فوجی راکٹ چلانے سے پہلے اس کے وزن اور ٹارگٹ کے فاصلے کی بنیاد پر اسے چھوڑنے کے زاویے کا یقین کرتے تھے اور ان کی تربیت اتنی اعلیٰ تھی کہ راکٹ عین نشانے پر گرتے تھے ٹیپو سلطان کے راکٹوں کی عالمی سطح پر پذیرائی کے بعد اب بھارتی ریاست کرناٹکا میں واقع ان کے سرنگا پٹم قلعے کو راکٹ میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں دنیا کے پہلے راکٹوں سے لے کر آج کے جدید میزائل تک کی جنگی ٹیکنالوجی کو رکھا جائے گا تاکہ عظیم مسلمان جرنیل کو ان کے شایان شان خراج تحسین پیش کیا جاسکے۔
جب انگریز فوج نے 4مئی 1799ءکو میسور پر قبضہ کیا تو وہ ٹیپو سلطان کی فوج کا بارود خانہ دیکھ کر حیران رہ گئے کیونکہ انہوں نے اس طرح کے راکٹ پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ انگریز جرنیل ڈیوک آف ویلنگٹن ولزلی نے فوراً سے پہلے یہ راکٹ برطانیہ پہنچائے جہاں ان پر مزید تحقیق کی گئی اور برطانوی افواج کو جدید راکٹ ملے ۔ یہ بات بھی لائق تحسین ہے کہ جدید میزائل ٹیکنالوجی بھی اسی راکٹ کے مرہون منت ممکن ہوئی۔
.
http://javedch.com/special-features/2016/02/19/140047


مذہب کے نام پر نوجوان لڑکیوں کو جسم فروشی پر مجبور


مذہب کے نام پر نوجوان لڑکیوں کو جسم فروشی پر مجبور


نئی دلی (نیوز ڈیسک) مذہب انسان کو پاکیزہ اور باعزت زندگی جیسی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے روشناس کرواتاہے لیکن بعض اوقات انسان مذہب کے نام پر ہی اس قدر ناپاک کام کرنا شروع کردیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ بھارت میں مذہب کے نام پر جسم فروشی بھی ایک ایسا ہی افسوسناک کام ہے جو کہ اب ایک بڑے کاروبار کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ 

اخبار ’ٹیلی گراف‘ میں شائع ہونے والے مضمون میں تحقیق کار سارہ ہیرس بتاتی ہیں کہ انہوں نے بھارتی ریاست کرناٹکا میں دو سال ایسی خواتین کے حالات جاننے میں گزارے کہ جنہیں بھگوان کے نام پر جسم فروشی پر لگادیا گیا تھا۔ سارہ کہتی ہیں کہ 2008ءمیں ان کا پہلی دفعہ ”دیو داسی“ کہلانے والی خواتین کے ساتھ آمنا سامنا ہوا۔ یہ خواتین عام جسم فروش خواتین سے خاصی مختلف نظر آتی ہیں۔ یہ مذہبی روپ میں نظر آتی ہیں، رنگ برنگے لباس پہنتی ہیں اور زیورات کا استعمال بھی کرتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے گاہکوں کے لئے ان میں اور عام جسم فروش خواتین میں کوئی فرق نہیں۔
صرف ریاست کرناٹکا میں ہی ایسی خواتین کی تعداد 23 ہزار سے زائد تھی، جنہیں ان کے اپنے گھر والوں نے ہی دیوداسیاں بنانے کے لئے مندروں اور پروہتوں کو بیچ دیا تھا، جو ان سے شرمناک دھندہ کروارہے تھے۔ سارہ کہتی ہیں کہ اگر تاریخ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ شرمناک روایت 14 سے 15 سو سال پرانی ہے جب قدیم بھارت میں لوگ اپنی نوعمر لڑکیوں کو افزائش نسل کی دیوی ’یلاما‘ سے منسوب کرکے مندروں میں چھوڑ دیا کرتے تھے۔ ابتدائی دور میں یہ دیوداسیاں عموماً مندروں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں اور مذہبی رسومات میں شرکت کیا کرتی تھیں۔ بعدازاں ان میں گانے بجانے اور امراءو نوابوں کی تفریح طبع کا اہتمام کرنے کا رواج بھی عام ہونے لگا۔ چند صدیاں بعد یہ مذہبی روایت اس قدر زوال پذیر ہوگئی کہ دیوداسیوں کا ہندو مت کی عبادات و رسومات سے تعلق تقریباً ختم ہوگیا اور یہ محض جسم فروش خواتین بن کررہ گئیں۔ 

آج بھی بھارت کے طول و عرض میں غریب خاندان جانتے بوجھتے ہوئے اپنی بچیوں کو دیوداسیاں بنانے کے لئے فروخت کردیتے ہیںاور پھر ان کی تمام عمر ہوس پرستوں کی تفریح طبع کا سامان بنتے ہوئے گزرجاتی ہے، اور ستم ظریفی دیکھئے کہ ان بچیوں کو بیچنے والے ان کے اپنے والدین سے لے کر ان کے جسموں کے ساتھ ہوس کی بھوک مٹانے والے گاہکوں تک ہر کوئی اس شرمناک کام کو مذہب کے لبادے میں کر رہا ہے۔
۔

بھارت میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے افسر نے امتیازی سلوک پر اسلام قبول کر لیا



بھارت میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے افسر نے امتیازی سلوک پر اسلام قبول کر لیا


جے پور(مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارت میں مذہبی انتہا پسندی ،حقوق تلفی ،امتیازی سلوک اور حکومتی مظالم سے تنگ آکر راجستھان روڈ وے ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے چیئرمین امراو سلودیا نے اسلام قبول کرلیا۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے بھارت امتیازی سلوک ، حق تلفی اور نا انصافی نئی بات نہیں ہے ،بھارت میں دلت خاندانوں سمیت بہت سی دیگر نچلی ذاتو ں سے تعلق رکھنے والے افرادکے بنیادی حقوق چھین کر ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا ہے ۔ تازہ رپورٹ کے مطابق نچل ذات سے تعلق رکھنے والے راجھستان روڈ ڈویلپمنٹ کے چیئر مین نے امتیازی سلوک سے تنگ آکر اسلام قبول کرلیا ۔
میڈ یا رپورٹس کے مطابق راجستھان کے چیف سیکرٹری کو31 دسمبر 2015 کو ریٹائرڈ ہونا تھا جس کے بعد یہ عہدہ امراوسلودیا کو ملنا تھا تاہم راجستھان کے وزیراعلیٰ نے انہیں اس عہدے پر اس لئے فائز نہیں ہونے دیا کیوں کہ ان کا تعلق نچلی ذات سے تھا اور وزیراعلی نے ریٹائرڈ ہونے والے چیف سیکرٹری کی مدت ملازمت میں توسیع کردی۔
امراوسلودیا حکومت کے اس فیصلے پرسخت مایوسی کا شکار ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی مدت ملازمت جون 2016 کو پوری ہورہی ہے اور اس عہدے پر فائز ہونا ان کا حق تھا ۔انہوں نے کہا اگر مجھے یہ عہدہ مل جاتا ہے تو بھارت کے قیام کے بعد میں ریاست کاوہ پہلا شخص ہوتا جس کا تعلق نچلی ذات سے ہے، تاہم مجھے صرف نچلی ذات کا ہونے کے باعث اس حق سے محروم کیا گیا۔
امراوسلودیا نے قبول اسلام کے بعد اپنا نام تبدیل کرکے امراوخان رکھ لیا ہے اور یہی نہیں بلکہ امتیازی سلوک کے باعث انہوں قبل ازوقت ریٹائرمنٹ بھی لے لی ہے۔

.
Source :
http://dailypakistan.com.pk/international/01-Jan-2016/314658

زلزلے قدرتی ہیں یا دراصل کچھ اور چل رہا ہے؟

زلزلے قدرتی ہیں یا دراصل کچھ اور چل رہا ہے؟ تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا، سائنسدانوں نے امریکہ کی طرف انگلی اٹھادی


واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ رات ایک دفعہ پھر طاقتور زلزلے نے پاکستان کے وسیع و عریض علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس سے پہلے بھی پاکستان میں ایسے زلزلے آچکے ہیں کہ جن کے مراکز شمال مغرب کے پہاڑی سلسلوں میں بتائے گئے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علاقے زلزلوں کے لحاظ سے نسبتاً خاموش اور پرسکون سمجھے جاتے ہیں، اور یہاں زلزلوں کا ظاہر ہونا خاصا تعجب خیز ہے۔ ان زلزلوں کے متعلق یہ سوال پہلے بھی سامنے آچکا ہے کہ ان کی وجہ زیر زمین قدرتی تبدیلیاں نہیں بلکہ امریکا کے جیو فزیکل ہتھیاروں کے ٹیسٹ ہیں، اور اب ایک دفعہ پھر یہی سوال اٹھ کھڑاہوا ہے۔ 
ویب سائٹ beforeitisnews.comکے مطابق 26 اکتوبر 2015ءکو شمالی افغانستان میں 7.5 طاقت کا زلزلہ آیا۔ اس موقع پر جیالوجی کے عالمی شہرت یافتہ ماہر ابراہیم بشپ کا کہنا تھا کہ اس زلزلے کی مزید تحقیقات کی ضرورت تھی کیونکہ یہ ایک ایسی علاقے میں آیا تھا کہ جہاں زیر زمین ارضیاتی تبدیلیاں بہت محدود تھیں اور اس علاقے میں زلزلہ آنے کا امکان انتہائی کم تھا۔ ان کا کہنا تھا ”دراصل یہاں پر ایسی تباہی آنے کی کوئی بھی قدرتی وجہ موجود نہیں تھی۔“ اسی طرح دیگر کئی ارضیاتی سائنسدانوں نے بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور اس ضمن میںامریکا کے دفاعی تحقیق کے ادارے ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹ ایجنسی کا بار بار ذکر ہوا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ادارہ 1980ءکی دہائی سے جیوفزیکل ہتھیار بنارہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار اس قدر طاقتور ہیں کہ سینکڑوں کلومیٹر پر محیط علاقے میں خوفناک زلزلہ پیدا کرسکتے ہیں۔ ماہرین 2010ءمیں افریقی ملک ہیٹی میں آنے والے تباہ کن زلزلے کو بھی انہی ہتھیاروں کا نتیجہ قرار دے چکے ہیں۔ ارضیاتی ماہرین افغانستان اور پاکستان میں حالیہ زلزلے کے بعد پھر یہی سوال اٹھارہے ہیں کہ ارضیاتی تبدیلویں کے لحاظ سے خاموش اور پرسکون علاقے میں مشکوک نوعیت کے زلزلے کیسے آرہے ہیں۔
کئی ماہرین نے اس معاملے کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ شاید سچ ہمارے سامنے کبھی نہیں آسکے گا، کیونکہ مبینہ جیو فزیکل ہتھیاروں کی موجودگی کو کبھی واضح الفاظ میں تسلیم نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس طرح کے سوالات اٹھانے والوں کو بھی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اس حوالے سے ڈاکٹر نک بیجک کی مثال بھی دی جاتی ہے، جو امریکی کانگرس کے رکن نک بیجک سینئر کے بیٹے تھے اور امریکا کے جیوفزیکل ہتھیاروں کی خفیہ لیبارٹریوں کے متعلق اکثر سوال اٹھاتے رہے تھے۔ پھر ایک دن وہ پراسرار طور پر غائب ہوگئے اور بعد ازاں کبھی بھی اس معاملے کے اصل حقائق سامنے نہیں آسکے۔ ایسے میں یہ سوال اور بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا کبھی سچ سامنے آئے گا؟

Thanks to:
http://dailypakistan.com.pk/daily-bites/28-Dec-2015/312055